Allama Iqbal poetry in Urdu

 Allama Iqbal poetry in Urdu


Allama Iqbal Poetry in Urdu

Introduction:
Allama Muhammad Iqbal also known as Allama Iqbal was a great poet, philosopher, barrister and theorist. Allama Muhammad Iqbal is called as the National Poet of Pakistan.

 Allama Iqbal poetry in Urdu

 Allama Muhammad Iqbal played a vital role in the development of Pakistan. He motivated the Muslims of Subcontinent for creating their separate homeland. He gave the idea of Pakistan. Iqbal wrote many books that include Bal-e-Jibril, Bang-e-Dara, Armughan-e-Hijaz etc.He Also wrote Ghazals, Poems,Poetry etc. Some of  Allama Iqbal poetry in Urdu is given below:

 Allama Iqbal poetry in Urdu


١) ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز 
  اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز  

(Allama Iqbal)


٢) فطرت کو خرد کے روبرو کر 
 تسخیر مقام رنگ و بو کر 

(Allama Iqbal)


٣) فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں 
 کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

(Allama Iqbal)


٤) عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی 
 یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

(Allama Iqbal)


٥) علم میں بھی سرور ہے لیکن 
 یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

(Allama Iqbal)


٦) عقل کو تنقید سے فرصت نہیں 
 عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

(Allama Iqbal)

٧) عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
 نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

(Allama Iqbal)


٨) عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو 
 کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی

(Allama Iqbal)

٩) تری انتہا عشق مری انتہا 
 تو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی نا تمام

(Allama Iqbal)


١٠) بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں 
 یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

(Allama Iqbal)



 Allama Iqbal poetry


١١) عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں 
 کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

(Allama Iqbal)


١٢) عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں 
 کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل

(Allama Iqbal)


١٣) آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں 
 محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

(Allama Iqbal)


١٤) نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے 
 مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

(Allama Iqbal)


١٥) موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے 
 قطرہ جو تھے مرے عرق انفعال کے

(Allama Iqbal)


١٦) من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں 
 تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

(Allama Iqbal)


١٧) مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں 
 انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

(Allama Iqbal)



١٨) مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے 
 مین اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

(Allama Iqbal)


١٩) مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا 
 وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

(Allama Iqbal)


٢٠)  مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب 
 خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

(Allama Iqbal)



٢١)مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی 
 جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے

(Allama Iqbal)

For more  Allama Iqbal poetry in Urdu do visit our website(https://quotesedu.blogspot.com/) regularly for the latest poetry.

Post a Comment

2 Comments

Please donot enter any spam links in comment.